پشاور: خیبرپختونخوا میں ڈرون حملوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی جلسے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی قیادت کی غیر موجودگی نے کارکنان کو مایوس کر دیا۔
احتجاج میں شریک کارکنوں نے مرکزی قیادت، خصوصاً وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی خاموشی اور غیر حاضری پر کھل کر ناراضی کا اظہار کیا۔
پی ٹی آئی رہنما عاطف حلیم نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کارکنان کی کم تعداد پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پانچ سو افراد کے نکلنے سے عمران خان باہر نہیں آئے گا۔
آج اگر ہم پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں تو وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور صاحب، آپ کیا کر رہے ہیں؟ ہم حکومت میں ہیں، لیکن پھر بھی ہماری خودمختاری پر حملے ہو رہے ہیں۔
جلسے میں شریک متعدد کارکنوں نے علی امین گنڈاپور کے رویے پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت کی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنے میں کیوں تاخیر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھارت کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونے کا وقت آیا ہے، تو قیادت کی خاموشی ناقابلِ قبول ہے۔
کارکنوں نے زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ ڈرون حملوں پر سنجیدگی سے مؤقف اختیار کرے اور عالمی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرے۔
یہ بھی پڑھیں : پشاور میں فضائی تحفظ کیلئے دفعہ 144 نافذ، ڈرون، پتنگ اور کبوتر اُڑانے پر پابندی عائد
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جارحیت کے خلاف نہ صرف احتجاجی سطح پر بلکہ حکومتی فورمز پر بھی ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ ملکی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔





