پشاور: سینئر صحافی عارف یوسفزئی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پالیسی پر سوشل میڈیا کا غیر معمولی دباؤ ہے، جو بعض اوقات جماعت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جن مشکلات کا آج سامنا ہے، ان میں سوشل میڈیا کا کردار نمایاں ہے۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے عارف یوسفزئی نے کہا کہ وہ پہلے بھی کئی مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ عمران خان بالآخر مذاکرات کے لیے تیار ہوں گے، اور حالیہ دنوں میں بھی عمران خان نے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر 9 اور 10 مئی کو جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچانا جرائم ہیں تو عمران خان کو سزا ملنی چاہیے، اور اگر یہ جرائم نہیں سمجھے جاتے تو پھر دوسروں کو بھی یہی رعایت دی جانی چاہیے۔
عارف یوسفزئی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا نے جہاں سیاسی جماعتوں کو عوام سے جوڑنے میں مدد دی ہے، وہیں بعض اوقات یہ جماعتی پالیسیوں پر ایسے دباؤ کا سبب بنتا ہے جو پارٹی کے لیے منفی نتائج پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان: مذاکرات کامیاب ہونے پر میرعلی دھرنا ختم
انہوں نے زور دیا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔





