اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی سخت، بکتربند اور قیدی وین پہنچا دی گئی

اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر پی ٹی آئی کا احتجاج، سکیورٹی سخت، بکتربند اور قیدی وین پہنچا دی گئی

پی ٹی آئی اراکین قومی اسمبلی اور کارکنان اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر عدلیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے جمع ہوگئے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین قومی اسمبلی، رہنما اور کارکنان اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بڑی تعداد میں جمع ہو گئے۔ مظاہرے میں پارٹی کی مرکزی قیادت، بشمول علیمہ خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے بھی شرکت کی۔

پی ٹی آئی کی قیادت کا مؤقف ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی چیئرمین عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی، جس پر پارٹی کے حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے۔ قیادت نے اعلان کیا ہے کہ وہ عدالت سے ایک بار پھر کیس مقرر کرنے کی اپیل کرے گی۔

احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد ہائی کورٹ اور گرد و نواح میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات ہے جبکہ قیدی وین اور بکتر بند گاڑیاں بھی عدالت کے باہر موجود ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کو ممکنہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس موقع پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’’26ویں آئینی ترمیم نے عدالتی نظام کو مفلوج کر دیا ہے۔ ان زنجیروں کو توڑ کر بانی پی ٹی آئی کے کیسز سنے جائیں۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے خلاف کیسز میں تاخیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ان میں کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں، اور ان کا مقصد صرف اور صرف بانی کو قید میں رکھنا ہے۔

پی ٹی آئی کا یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پارٹی کی اعلیٰ قیادت مختلف مقدمات کی زد میں ہے اور فوری عدالتی ریلیف کی منتظر ہے۔ مظاہرے کے ذریعے پارٹی نے عدلیہ سے نہ صرف یکجہتی کا مظاہرہ کیا بلکہ ایک بار پھر انصاف کی بروقت فراہمی کا مطالبہ بھی دہرایا۔

Scroll to Top