پولیس بجٹ میں جدید ہتھیار ، تھرمل گنز ، بکتر بند گاڑیاں ، آئی ٹی سازوسامان اور ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری شامل ہے ۔
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس نے مالی سال 2025-26 کے لیے صوبائی حکومت سے موجودہ بجٹ کے مقابلے میں تین گنا زائد مالی وسائل کا مطالبہ کرتے ہوئے 20 ارب روپے کی ڈیمانڈ پیش کر دی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق نئے بجٹ میں جدید ہتھیاروں، تھرمل گنز، بکتربند گاڑیوں، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساز و سامان اور ضم شدہ اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے خطیر رقم مانگی گئی ہے۔ بجٹ میں بندوبستی اضلاع کے لیے 14.5 ارب روپے جبکہ ضم شدہ اضلاع کے لیے 3 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ صوبے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز، دہشت گردی کے خطرات اور جدید جرائم کے تناظر میں پولیس فورس کو نئی ٹیکنالوجی اور سہولیات سے لیس کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ انہی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں نمایاں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ تجاویز میں پولیس تھانوں، چیک پوسٹوں اور دیگر اہم عمارتوں کی مرمت و تعمیر، جنوبی اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ کا آغاز، اور کئی عرصے سے التوا کا شکار ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی شامل ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق رواں مالی سال کے دوران متعدد منصوبے فنڈز کی کمی کے باعث سست روی کا شکار رہے، جنہیں اب ’ون ٹائم بنیاد‘ پر مکمل کرنے کی حکمتِ عملی تیار کی گئی ہے۔ ان ترجیحات میں جدید اسلحہ، تھرمل گنز اور اے پی سی گاڑیوں کی خریداری سرفہرست ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پولیس فورس کے لیے وسائل میں اضافہ ایک دیرینہ مطالبہ رہا ہے، جس پر اب باقاعدہ طور پر بجٹ تجاویز کی صورت میں پیش رفت کی گئی ہے۔





