پشاور: سینئر صحافی فدا عدیل نے پختون ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی صرف دعووں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ عملی طور پر بھی ثابت ہو چکی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے نہ صرف چین کی ٹیکنالوجی کو جانچا بلکہ اس دوستی کی حقیقی بنیادوں کو بھی پرکھا، اور یہ تعلق ہر آزمائش پر پورا اترا۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بھی اب یہ بات سمجھ آ چکی ہے، جس کا اندازہ اس کے رویے سے لگایا جا سکتا ہے۔ اب افغانستان ایک گروپ کے بجائے ایک حکومت کی طرح برتاؤ کر رہا ہے، جو خطے میں استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
فدا عدیل نے پہلگام واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس واقعے کے بعد پاکستان کی توجہ بھارت کی جانب ہوئی، تو افغان مہاجرین کو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید اُنہیں مزید رعایتیں دی جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت کی افغان مہاجرین سے متعلق پالیسیوں میں فرق ہے، اور اس معاملے میں اب نرمی یا سستی آ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : دیگر صوبوں سے افغان باشندے خیبرپختونخوا کا رخ کر رہے ہیں، پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں انکشاف
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دنوں میں روزانہ پانچ ہزار افغان مہاجرین واپس جا رہے تھے، لیکن اب یہ تعداد کم ہو کر 800 سے 1000 یومیہ رہ گئی ہے، جو پالیسی میں تبدیلی یا عملدرآمد میں سستی کا مظہر ہے۔





