شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پارٹی کی اولین ترجیح بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہیے، تاہم قیادت کو ورکرز کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی میں جاری اندرونی کشمکش اور حکمت عملی کے فقدان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کی اولین ترجیح بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائی ہونی چاہیے، تاہم قیادت کو ورکرز کو نظر انداز کرنے کے بجائے ان کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔
نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی میں واضح مؤقف کی کمی ہے، جبکہ کارکن شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لیڈرشپ کو چاہیے کہ وہ کھل کر سامنے آئے اور ورکرز کو اعتماد میں لے، کیونکہ اگر کارکن خود سڑکوں پر نکلے تو معاملات بگڑ سکتے ہیں۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے موجودہ لیڈرشپ کو خود نامزد کیا ہے، فیصلے بھی اسی قیادت کو کرنے ہیں، تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ حکمت عملی واضح ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین سمجھوتے کے قائل نہیں، لیکن یہ بات سامنے آنی چاہیے کہ انہیں اب تک کیوں قید میں رکھا گیا ہے۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ پارٹی کو پُرامن سیاسی تحریک کی طرف جانا چاہیے۔ ’’حکومت کو ڈرایا نہیں جا سکتا، اخلاقی دباؤ ہی ہمارا ہتھیار ہے، اور یہ دباؤ تبھی مؤثر ہوگا جب قیادت فرنٹ فٹ پر ہو،‘‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قیادت اس وقت بیرسٹر گوہر علی خان کے پاس ہے، لیکن احتجاج کا طریقہ کار، دورانیہ اور حکمت عملی ابھی واضح نہیں۔’’اگر قیادت تحریک میں موجود ہو تو کارکنوں کا حوصلہ بڑھے گا، ہمیں لمبے عرصے کی پُرامن اور منظم تحریک پر توجہ دینی ہوگی۔‘‘
شوکت یوسفزئی کے ان بیانات نے اس تاثر کو مزید تقویت دی ہے کہ پارٹی کے اندر فیصلوں کے حوالے سے ابہام موجود ہے، جسے دور کرنا قیادت کے لیے ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔





