بجٹ میں ضم شدہ اضلاع کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں،احسن اقبال

وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ 218 سے 2022 کے دوران کئی گنا قرضے لیے گئے۔ صوبوں اور وفاقی وزارتوں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل بنا رہے ہیں 664 ارب روپے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے رکھنے کا تخمینہ ہے۔

سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سوشل سیکٹر کے لیے 150 ارب مختص کیے گئے ہیں، این 25 شاہراہ کے لیے 120 ارب روپے رکھے جائیں گے، فاٹا سابق اضلاع کے لیے 70 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت کے لیے 64 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جاری منصوبوں کی تکمیل کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی، معاشی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ حکومت نے مختلف منصوبوں میں اربوں روپے کی بچت بھی کی ہے ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ 664 ارب انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے رکھنے کا تخمینہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ برآمدات کو 35 ارب ڈالر تک لے کر جانے کا ہدف ہے، اوورسیز پاکستانیز حکومت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں، ٹیکس محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مضبوط دفاع کے لیے مضبوط معیشت ناگزیر ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور پانی سے متعلق مسائل حل کرنا ہوں گے۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ صحت، تعلیم سمیت بنیادی سہولتوں کی بہتر فراہمی کے لئے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ضروری ہے۔ حکومت بہتر گورننس کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرے گی۔ دیامر بھاشا ڈیم کو جلد سے جلد مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ حیدرآباد، سکھر موٹروے کو تین سال میں مکمل کریں گے۔

قبل ازیں سالانہ پلان کوآرڈینیشن کمیٹی (اے پی سی سی) کا اہم اجلاس وفاقی وزیر احسن اقبال کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر خالد مقبول، مختلف وفاقی سیکریٹریز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، صوبائی حکومتوں کے نمائندے، قومی و صوبائی اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

اجلاس میں چیف اکانومسٹ ڈاکٹر امتیاز نے شرکا کو آئندہ سالانہ ترقیاتی منصوبہ، معاشی روڈ میپ اور ترجیحی اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند سالوں کے معاشی چیلنجز کے باعث قومی ترقیاتی بجٹ میں مسلسل کمی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ ترقیاتی فنڈز میں وسعت وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ عوام صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور انفراسٹرکچر میں بہتری کی توقع منتخب حکومتوں سے رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وفاقی بجٹ کا نصف سے زائد حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف ہو رہا ہے اور موجودہ وسائل میں ترقیاتی بجٹ کو مینج کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ رواں مالی سال کے لیے ترقیاتی بجٹ 1000 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جس میں تمام وزارتوں کے منصوبے شامل کرنا ممکن نہیں تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی شرح نمو، عوامی مسائل کے حل اور معاشی اہداف کے حصول کے لیے چیلنج کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ کے لیے قومی سطح پر مربوط مہم کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ٹیکس ریونیو کی شرح کم ترین ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 118 سے زائد کم ترجیحی یا غیر فعال منصوبے بند کیے جا چکے ہیں جب کہ محدود فنڈز میں صرف اہم قومی منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ پی ایس ڈی پی میں غیر ملکی فنڈنگ والے منصوبے بھی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ دیا میر بھاشا ڈیم، سکھرحیدرآباد موٹر وے، چمن روڈ، قراقرم ہائی وے (فیز ٹو) جیسے بڑے منصوبے قومی اہمیت کے حامل ہیں اور ان کی بروقت تکمیل پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اُڑان پاکستان پروگرام کے تحت تمام صوبوں میں ورکشاپس کا انعقاد کر کے قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ وقت کے ساتھ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ کرنا ہوگا، نہ کہ اسے مزید محدود کرنا۔

یہ بھی پڑھیں :گزشتہ ہفتے کے مقبول اسمارٹ فونز کی فہرست جاری

انہوں نے کہا کہ 2018 میں نئے منصوبے شروع کرنے کے بارے میں سوچتے تھے ،آج جاری منصوبوں کو محدود کرنے کے حوالے سے مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ قومی ترقی میں سب کو اپنی ذمے داری نبھانی ہوگی۔ اگر کوئی منصوبہ شامل نہ ہو سکا تو پیشگی معذرت۔

Scroll to Top