پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور کے تاریخی سینما پکچر ہاؤس کو مسمار کر دیا گیا ہے، جس کے ساتھ شہر میں سینما کلچر تقریباً دم توڑ گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پکچر ہاؤس سینما تاریخی قصہ خوانی بازار کے قریب واقع تھا اور یہ شہر کی ثقافت کا اہم حصہ رہا ہے۔ اسے 1931 میں سکھ تاجر داسوت سنگھ نے قائم کیا تھا جہاں 83 سال تک روزانہ تین شو ہوتے رہے۔
اس سینما کی مقبولیت میں 1940 کی فلم پکار اور 1941 کی فلم سکندر نے نمایاں کردار ادا کیا۔ یہاں پشتو، اردو اور پنجابی فلموں کی نمائش 2024 تک جاری رہی۔
خاص طور پر پشتو فلمیں یہاں زیادہ چلائی جاتی تھیں اور پشاور کے مضافات سے لوگ بھی انہیں دیکھنے آتے تھے۔ پکچر ہاؤس کے علاوہ ناولٹی سینما اور تصویر محل سینما بھی اسی علاقے میں واقع تھے، جس کی وجہ سے اس روڈ کو سینما روڈ کے نام سے جانا جاتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا حکومت کرپشن میں ملوث، کارکنان کو عمران خان کی رہائی کے کیمپ میں مصروف رکھا گیا،ارباب خضر حیات
یہ سینماؤں کی وجہ سے قصہ خوانی بازار رات دیر تک کھلا رہتا تھا، جہاں فلم کے آخری شو کے بعد شائقین تکہ، لسی اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کے سٹالز پر جاتے تھے۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس تاریخی ثقافتی ورثے کی حفاظت اور فروغ کے لیے توجہ نہ دینے کے باعث پشاور کی ثقافت معدوم ہوتی جا رہی ہے، جو افسوس کا باعث ہے۔





