پاک افغان بارڈر کی بندش سے تجارت شدید متاثر، سالانہ تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک محدود

پاک افغان بارڈر کی بندش سے تجارت شدید متاثر، سالانہ تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک محدود

پاک افغان بارڈر کی بار بار بندش اور تجارتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کے باعث پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت شدید متاثر ہوئی ہے، جس کا سالانہ حجم ڈھائی ارب ڈالر سے کم ہو کر صرف ایک ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر ضیاء الحق سرحدی کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی، بارڈر مینجمنٹ کے مسائل اور غیر مستقل پالیسیوں نے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ ہزاروں مزدور اور کاروباری افراد بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے پاکستان کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کو ترجیح دینی ہوگی تاکہ افغانستان کے راستے علاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔

پاکستان سے افغانستان کو سیمنٹ، سریا، ادویات، سبزیاں، آٹا اور چینی سمیت مختلف اشیاء برآمد کی جاتی ہیں، جب کہ افغانستان سے پاکستان کو پھل اور سبزیاں درآمد کی جاتی ہیں۔ تاہم، افغانستان میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال نے بھی تجارتی روابط کو نقصان پہنچایا ہے۔

یاد رہے کہ فروری 2025 میں دو طرفہ کشیدگی کے باعث پاک افغان سرحد کو بند کر دیا گیا تھا، جس سے دونوں ممالک کو ٹیکس وصولیوں کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا، جب کہ کراچی سے طورخم تک تجارتی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا۔ سینکڑوں ٹرک بارڈر پر پھنس گئے اور ہزاروں مزدور کئی روز تک بے روزگار رہے۔

تجارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ دو طرفہ تجارت میں بہتری کے لیے مستقل، شفاف اور قابلِ پیش گوئی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ، سیاسی کشیدگی کے خاتمے اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کی اشد ضرورت ہے۔

Scroll to Top