ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن نے وفاقی بجٹ میں ملاکنڈ کے لیے خام مال پر 10 فیصد سیلز ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کردیا
ملاکنڈ ڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن نے حکومت کو تنبیہ کی ہے کہ اگر ڈویژن کی جداگانہ آئینی حیثیت بحال نہ کی گئی تو بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر حاجی عبدالرحیم نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حالیہ وفاقی بجٹ آئی ایم ایف کے ایجنڈے پر مبنی ہے جس کا مقصد صرف مراعات یافتہ طبقے کو فائدہ دینا اور غریب عوام و کاروباری طبقے پر مزید بوجھ ڈالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی حیثیت تاریخی قربانیوں کی بنیاد پر قائم ہے اور اس پر سیلز ٹیکس لاگو کرنا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی بھی ہے۔
حاجی عبدالرحیم نے مزید کہا کہ ہم 1969 سے پاکستان کا حصہ ہیں، دہشتگردی، زلزلے اور سیلاب جیسے سنگین بحرانوں کے باوجود ہم نے ہر مشکل میں قربانیاں دیں لیکن اب ہمیں تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے پنجابی صنعتکاروں اور مراعات یافتہ طبقے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے گریبان سے ہاتھ نکالا جائے ورنہ ہم بھی جواب دینا جانتے ہیں، سازشیں بند کی جائیں ہم اپنے حقوق کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔
صدر فیڈریشن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان کی نااہلی کے باعث ملاکنڈ کے ترقیاتی فنڈز روک دیے گئے ہیں جس سے پورے علاقے کو پسماندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جلد ہی ملاکنڈ ڈویژن بھر کی تمام تاجر تنظیموں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
تاجر رہنما نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ آئینی حیثیت بحال کرے اور 10 فیصد سیلز ٹیکس کے فیصلے کو واپس لے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ پورے خیبرپختونخوا تک پھیلایا جائے گا۔





