پاکستان کی معیشت کے لیے ایک بڑی پیش رفت کے طور پر، بلوچستان میں واقع ریکوڈک کا تانبے کا منصوبہ ہر سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 1 فیصد اضافہ کرے گا۔
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عالمی ادارے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن(آئی ایف سی ) کی جانب سے فراہم کردہ 300 ملین ڈالر کے براہ راست قرض اور 400 ملین ڈالر کی بلینڈڈ فنانسنگ کی مدد سے شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا یہ پاکستان میں آئی ایف سی کی جانب سے کان کنی کے شعبے میں پہلی سرمایہ کاری ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ آئی ایف سی نہ صرف مالی معاونت فراہم کرے گا بلکہ منصوبے کے ماحولیاتی اور سماجی پہلوؤں کی نگرانی بھی کرے گا تاکہ تمام سرگرمیاں عالمی معیار کے مطابق ہوں۔
عالمی بینک اور آئی ایف سی کی منظوری سے ریکوڈک منصوبے کے لیے حال ہی میں 700 ملین ڈالر کا رعایتی قرض منظور کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں نجی شعبے سے 2.5 ارب ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ منصوبے سے ہر سال تقریباً 2 ارب ڈالر کی معاشی قدر پیدا ہوگی جو مکمل طور پر غیر ملکی زرمبادلہ کی صورت میں حاصل ہو گی۔
منصوبے کی قیادت ریکوڈک مائننگ کمپنی(آرڈی ایم سی )کر رہی ہے جس میں کینیڈا کی بیریک گولڈ کارپوریشن کا 50 فیصد حصہ ہے جبکہ باقی 50 فیصد پاکستانی ریاستی ادارے 25فیصداور حکومت بلوچستان 25 فیصدکے پاس ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے تانبے کے ذخائر موجود ہیں اور منصوبے کی متوقع مدت 40 سال ہے، اس دوران ہر سال 2 سے 2.5 لاکھ ٹن تانبہ نکالا جائے گا، جو دنیا میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے میں مدد دے گا۔
ڈاکٹر توقیر شاہ کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تعمیر کے دوران 10,000 ملازمتیں پیدا ہوں گی، جن میں مقامی بلوچ افراد کو ترجیح دی جائے گی۔
منصوبے کی مکمل فعالیت کے بعد 3,000 براہ راست ملازمتیں اور ہزاروں دیگر بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، کمپنی خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔
اب تک ریکوڈک مائننگ کمپنی نے 25 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری مقامی تعلیم، صحت، صاف پانی، خوراک اور بنیادی سہولیات پر کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ
کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ تعمیراتی لاگت کا 1 فیصد اور سالانہ آمدنی کا 0.4 فیصد مقامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے سے منسلک بجلی، پانی اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی جاری ہے، جس سے مستقبل میں دیگر معدنی وسائل کی تلاش اور علاقائی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔





