اسٹیٹ بینک کی نئی مالیاتی پالیسی کل متوقع، شرح سود 11 فیصد پر برقرار رہنے کا امکان

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان کل متوقع ہے، جس میں شرح سود کو 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کا اجلاس کل گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیر صدارت ہوگا، جس میں ملکی اور عالمی اقتصادی حالات کا جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ پالیسی ریٹ کا فیصلہ کیا جائے گا۔

نجی ٹی وی چینل ’’آج‘‘ کے مطابق، ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ افراط زر کی رفتار مئی میں 3.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، تاہم دسمبر تک مہنگائی کی اوسط شرح 8 فیصد تک جا سکتی ہے، جس کے پیش نظر شرح سود کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کی پالیسی اپنائی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال جون سے اب تک اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں مجموعی طور پر 11 فیصد کمی کر چکا ہے، جو مالیاتی نرمی کی ایک بڑی مثال ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں شرح سود میں مزید کمی کے امکانات محدود ہیں، خاص طور پر جب مہنگائی کا دباؤ دوبارہ بڑھنے کے آثار دکھائی دے رہے ہوں۔

معاشی ماہرین، صنعتکار اور سرمایہ کار اسٹیٹ بینک کے فیصلے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ مالیاتی پالیسی نہ صرف مہنگائی بلکہ معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

Scroll to Top