وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی فوری قلت یا بحران کا کوئی امکان نہیں۔ یہ بات وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کہی گئی، جس میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں شریک حکام کو آگاہ کیا گیا کہ فی الوقت پاکستان میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی مستحکم ہے، جس پر کمیٹی نے اطمینان کا اظہار کیا۔
ایران اسرائیل کشیدگی زیر غور، قیمتوں پر ممکنہ اثرات کا جائزہ
اجلاس کے دوران ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی جیوپولیٹیکل صورتحال، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور اس کے ملکی معیشت پر اثرات کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔
روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، ہفتہ وار رپورٹ وزیرِاعظم کو پیش کی جائے گی
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایک خصوصی ورکنگ گروپ روزانہ کی بنیاد پر عالمی و مقامی پیٹرولیم صورتحال کا جائزہ لے گا، جبکہ کمیٹی ہر ہفتے باقاعدہ اجلاس کر کے وزیر اعظم کو تفصیلی رپورٹ اور تجاویز پیش کرے گی۔ اس ضمن میں پیٹرولیم ڈویژن کو سیکرٹریٹ کے طور پر ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔
قیمتوں میں اضافہ
دوسری جانب وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق:
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 80 پیسے اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 95 پیسے اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 262 روپے 59 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ قیمتیں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت اور دیگر مالیاتی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کی گئی ہیں۔





