خیبرپختونخوا میں صحت کا بجٹ 276 ارب روپے مقرر، 19 فیصد اضافہ

پشاور:(سلمان یوسفزئی) خیبر پختونخوا کے محکمہ خزانہ نے مالی سال 2025-26 کے لیے محکمہ صحت کا بجٹ 276 ارب روپے مقرر کیا ہے، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ سال صحت کے لیے 232 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق بندوبستی اضلاع میں صحت کارڈ پلس پروگرام کے لیے مختص بجٹ 28 ارب روپے سے بڑھا کر 35 ارب روپے کر دیا گیا ہے جو 25 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ضم شدہ اضلاع کے لیے صحت سہولت پروگرام کے تحت 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

صحت کارڈ پلس پروگرام میں رواں سال مزید مہنگے اور پیچیدہ علاج بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں گردے، جگر اور دل کے امراض کے ساتھ ساتھ بون میرو ٹرانسپلانٹ بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ بچوں اور بڑوں میں قوت سماعت کی بحالی کے لیے مہنگا علاج کوکلئیر ایمپلانٹ بھی اب صحت کارڈ کے تحت مفت فراہم کیا جائے گا۔

صحت کارڈ کے ذریعے حادثات، ایمرجنسی، ذیابیطس، ہیپاٹائٹس، ڈائیلاسز اور کینسر جیسے مہلک امراض کا علاج بھی مکمل طور پر مفت ہوگا۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد صوبے کے تمام شہریوں کو بلاامتیاز معیاری اور مفت علاج کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔بجٹ میں بنیادی صحت مراکز کی بہتری کے لیے بھی نمایاں رقم مختص کی گئی ہے۔

مالی سال 2025-26 کے دوران شہری و دیہی علاقوں کے 2500 سے زائد بنیادی مراکز صحت کی بہتری کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ان مراکز میں ادویات، طبی سامان، بجلی، پانی اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

اس طرح صوبے کے پانچ اضلاع میں نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت کے مراکز کے قیام کا بھی منصوبہ شامل ہے تاہم بجٹ دستاویزات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مراکز کن اضلاع میں قائم کیے جائیں گے اور ان کی تکمیل میں کتنا وقت لگے گا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکا میں غیر ملکی طالب علموں پر عائد ویزا پابندی ختم

صوبائی حکومت نے مردان اور بنوں میں پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سٹیلائٹ مراکز کے قیام، ضلع اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام، ضلع کرم میں صدہ ہسپتال کی کیٹیگری ڈی سے سی میں اپگریڈیشن، اور ضلع اورکزئی کے ڈبوری ہسپتال کی بحالی و تعمیر نو کو بھی آئندہ مالی سال کے منصوبوں میں شامل کیا ہے۔

Scroll to Top