کے پی ویمن کمیشن تین سال سے بغیر چیئرپرسن، خواتین کے مسائل کا حل صرف کاغذوں تک محدود، شگفتہ ملک

پشاور :سابق ایم پی اے شگفتہ ملک نے انکشاف کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (KPCSW) گزشتہ تین سال سے بغیر چیئرپرسن کے چل رہا ہے، جس کے باعث خواتین کے مسائل کے حل میں خاطر خواہ پیشرفت ممکن نہیں ہو سکی۔

پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کمیشن میں تمام عملہ تنخواہیں تو لے رہا ہے، لیکن بغیر قیادت کے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ سب کچھ بغیر سربراہ کے چل رہا ہے، اور جب تک چیئرپرسن مقرر نہیں ہوتی، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے کمیشن کا فعال کردار ممکن نہیں۔

شگفتہ ملک نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیحات میں خواتین کے مسائل کبھی شامل نہیں رہے۔

اگرچہ کئی قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پچھلے دورِ حکومت میں جب خواتین کے مسائل کی نشاندہی کی گئی، تو حکومتی رویہ غیرسنجیدہ، غیراہم اور محض نمائشی نظر آیا۔

یہ بھی پڑھیں : پاڑا چنار: پینے کے صاف پانی کے بحران نے شدت اختیار کر لی

انہوں نے زور دیا کہ خواتین کے لیے بنائے گئے اداروں کو مؤثر بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں اور کے پی سی ایس ڈبلیو میں بااختیار چیئرپرسن کی تقرری کو یقینی بنایا جائے۔

Scroll to Top