پشاور( محمد اعجازآفریدی)وفاق نے خیبرپختونخوا کے رواں مالی سال میں تاحال ٹیکس کے اہداف حاصل نہ کرنے اور آئی ایم ایف کی جانب سے مقررہ 170 ارب روپے کے سرپلس میں 111 ارب روپے سرپلس دینے پر تشویش کا اظہار کیاہے اور واضح کیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ 2024 سے 2027 تک جاری پروگرام ایک قومی پروگرام ہے جس کی کامیابی کا انخصار صوبوں کی کارکردگی پر ہے۔
خیبرپختونخوا نے رواں مالی سال کے دوران 67 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 46 ارب روپے جمع کئے ہیں جبکہ رواں سال کے آخری مہینہ کے دوران سرپلس کا مقرر170 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 111 ارب روپے کا ہدف حاصل کیا گیا ہے جو مقررہ ہدف سے 59 ارب روپے کم ہے ۔
وزارت خزانہ نے اس حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت کو تمام تر تفصیلا ت ارسال کردئیے ہیں اور کہاہے کہ وزارت خزانہ نے خیبر پختونخوا حکومت پر مالی سال 2025-26ء کے لیے 658 ارب روپے صحت و تعلیم کے اخراجات اور 220 ارب روپے کے بجٹ سرپلس (فاضل) کا ہدف عائد کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے کو تعلیم پر 399 ارب 80 کروڑ روپے جبکہ صحت پر 258 ارب 16 کروڑ روپے خرچ کرنا ہوں گے تاہم صوبائی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے لئے 263 ارب روپے اور صحت کے لئے 276 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جن میں اخراجات جاریہ اور ترقیاتی اخراجات دونوں شامل ہیں۔
بتایاجاتاہے کہ خیبرپختونخوا نے صوبے میں تعلیم کے لئے آئی ایم ایف کی شرط سے کم پیسے مختص کئے ہیں تاہم صحت کے شعبے کے لئے مقررہ ہدف سے زیادہ فنڈز رکھے گئے ہیں ، وفاق کے مطابق یہ ہدف صوبائی محکمہ خزانہ کے 20 مئی 2025ء کے خط میں دی گئی تجاویز کی روشنی میں طے کیے گئے ہیں اور ان کا مقصد آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے 3 سالہ ایگزٹنڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف ) معاہدے کے تحت قومی وعدوں کی تکمیل ہے۔
تعلیمی اخراجات میں سے 368 ارب 18 کروڑ روپے اخراجات جاریہ جبکہ 31 ارب 62 کروڑ روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مخصوص ہوں گے، اسی طرح صحت کے شعبے میں 219 ارب 92 کروڑ روپے اخراجات جاریہ اور 38 ارب 24 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اشیاء سے متعلقہ قرضوں میں اضافے سے گریز کرے اور کموڈٹی آپریشنز کے مالی اثرات کو بجٹ میں شفاف طریقے سے ظاہر کرے تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خیبرپختونخوا حکومت نے بیرونی امداد گرانٹ اور قرضوں کی مد میں 170 ارب روپے رکھنے کی تجویزہے ۔
وفاق نے صوبے کو متنبہ کیا ہے کہ جولائی 2025ء تک موجودہ مالی سال 2024-25ء کے لیے 178 ارب روپے کا سرپلس ہدف اور صحت کے لئے 232 ارب روپے اور تعلیم کے لئے 368 ارب روپے کے اخراجات کے طے شدہ ہدف حاصل کرنا ضروری ہیں۔ تاہم مارچ 2025ء تک کی کارکردگی کے مطابق صوبہ سرپلس کے ہدف میں صرف 111 ارب روپے جبکہ ٹیکس وصولیوں میں 67 ارب کے ہدف کے مقابلے میں 46 ارب روپے ہی جمع کر سکا ہے، جو نئے اہداف کے حصول کے لیے چیلنج پیدا کرتا ہے۔
دونوں حکومتوں کے درمیان ان مالی ہدفوں پر جلد ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط متوقع ہیں۔ وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا 2024-27ء کا ای ایف ایف پروگرام ایک “قومی پروگرام” ہے جس کی کامیابی کا انحصار صوبوں کی کارکردگی پر ہے، اور خیبر پختونخوا کی جانب سے مسلسل تعاون سے ہی اسے ٹریک پر رکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :ناران ، گلیشئر تلے دب کر باپ بیٹے سمیت 3 سیاح جاں بحق
ماہرین معیشت کے مطابق صحت و تعلیم کے بڑے اہداف قابل ستائش ہیں لیکن 220 ارب روپے سرپلس کا ہدف صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل کی دستیابی پر سوالیہ نشان کھڑا کر سکتا ہے۔ اب صوبائی حکومت کو جولائی تک موجودہ سال کے ہدف پورے کرنے کے ساتھ ساتھ اگلے مالی سال کے لیے وفاق کی تجاویز پر عملدرآمد کا عملی منصوبہ پیش کرنا ہوگا۔





