پشاور: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی مرکزی رہنما ثمر ہارون بلور نے خیبرپختونخوا حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ صرف وزیر اعلیٰ ہاؤس کا بجٹ گزشتہ چار سالوں میں 40 کروڑ روپے سے بڑھ کر 1 ارب 40 کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، اور دوسری جانب وزیراعلیٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ وفاق کو قرضہ دے سکتے ہیں۔
پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایک طرف بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں، اور دوسری جانب چیخ رہے ہیں کہ صوبے کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے بجٹ میں عوامی فلاح کا کیا حصہ ہے؟
ثمر ہارون بلور نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں پچھلے 12 سالوں سے تحریک انصاف کی حکومت ہے، لیکن آج بھی صوبے کی پسماندگی پر دوسروں کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سابق ڈی جی نیب اور دیگر اعلیٰ افسران کے بیانات موجود ہیں جن کے مطابق عمران خان نے خود ہدایت کی تھی کہ اسفندیار ولی، آفتاب شیرپاؤ اور مولانا فضل الرحمان کے خلاف کچھ نہ کچھ نکالا جائے، لیکن کچھ نہ مل سکا۔
یہ بھی پڑھیں : شمالی وزیرستان میں پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد، دفعہ 144 نافذ
اے این پی رہنما کا کہنا تھا کہ درحقیقت جو بھی کرپشن ہوئی ہے، وہ پی ٹی آئی کے ہی ادوار میں ہوئی ہے، اور اب عوام ان سے حساب مانگ رہی ہے۔





