پشاور(شاہد جان )خیبرپختونخوا کے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مختلف طبقوں پر مختلف ٹیکس عائد کیاگیاہے۔
اگلےسال کے بجٹ میں میں شادی ہالز پر فکس ٹیکس عائد کیاگیاہے ، فکس ٹیکس کے لحاظ سے شادی ہالز کو مختلف کیٹگریز میں تقسیم کیاگیاہے۔
صوبے کے پوش علاقے میں واقع 5 سو سے زائد افراد کی کیپسٹی رکھنے والے شادی ہالز میں فی شادی کی تقریب پر 50 ہزار ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ میونیسپلٹی علاقے میں واقع 3 سو سے زائد اور 5 سو سے کم افراد کی گنجائش رکھنے والے شادی ہالز میں فی شادی کی تقریب پر 20 ہزار ٹیکس اور شہر سے باہر سڑک کنارے واقع شادی ہال جس میں 3 سوافراد سے کم گنجائش ہو، پر فی شادی تقریب 10 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح خیبرپختونخوا حکومت نے اگلے مالی سال میں درزیوں پر بھی ٹیکس عائد کیاگیاہے،بجٹ دستاویزکے مطابق قمیص اور شلوار سینے والے درزی کو سالانہ 5 ہزار ٹیکس دینا پڑے گا جبکہ شلوار اورقمیص کے ساتھ واسکٹ اور پینٹ شرٹ سینے والے درزی پر 15 ہزار روپے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح اس بجٹ میں مکانات، گھر اور عمارتوں پر بھی ٹیکس عائد کیاگیاہے،بجٹ دستاویزات کے مطابق ذاتی استعمال کے 4 اعشاریہ 9 مرلے سے کم مکان پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں لگے گا مگر 4 اعشاریہ 9 مرلے سے کم مکان اگر کرایہ پر دیا گیاہے تو اس پر 10 فیصد ٹیکس دینا ہوگا اور اگر مکان مالی ادارے کو کرایہ پر دیا گیا ہے توپھر 15 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں پرائیویٹ سکولوں پر بھی ٹیکس عائد کیا گیاہے اور اس ٹیکس کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیاہے جو پرائمری ، مڈل ،ہائی ، ہائیر سیکنڈری اورکالج کے لیول کیلئے الگ الگ ٹیکس تجویز کیاگیاہے۔
اس بجٹ میں پروفیشنل ٹیکس بھی عائد کیاگیاہے ،50 ہزار آمدن تک پر سالانہ 12 سو،1 لاکھ آمدن تک پر 15 سو،2 لاکھ آمدن تک پر 2 ہزار ، 5 لاکھ تک آمدن پر 3 ہزار اور 5 لاکھ سے اوپر پر 5 ہزار ٹیکس تجویز کیاگیاہے۔
اس بجٹ میں منی چینجر پر بھی ٹیکس لگادیاگیاہے،پشاور میں کام کرنے والے منی چینجر پر سالانہ 50 ہزار اور پشاور سے باہر کے منی چینجر 25 ہزار ٹیکس عائد کیاگیاہے۔
جمز پر بھی ٹیکس عائد کیاگیاہے، پشاور کے جمز پر سالانہ 10ہزار اور پشاور کے باہرجمزمالک کو 5 ہزار روپے سالانہ ٹیکس دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پانچ روزہ کمی کے بعد سونے کی قیمت میں اضافہ
خیبرپختونخوا حکومت دعوی کررہی ہے کہ موجودہ بجٹ ٹیکس فری ہے اور کسی قسم کا نیا ٹیکس عائد نہیں کیاگیاہے جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس دعوے کو رد کررہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ موجودہ بجٹ عوام دشمن ہے اور مختلف مد میں عوام پر ٹیکس کا بوج ڈالا گیاہے۔





