امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ اگر ایران نے دوبارہ کسی قسم کا حملہ کیا تو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، امریکی افواج ایران کی مزاحمت کو طاقت کے ذریعے کچلنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا ہم نے ایران کا ایٹمی پروگرام تباہ کر دیا ہے اور ایرانی جوہری سائٹس کو نشانہ بنا کر ان کی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو مذاکرات کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا تھا لیکن اس دوران کوئی معاہدہ طے نہیں پایا جس کے بعد کارروائی ناگزیر ہو گئی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران پر حالیہ حملے سے متعلق وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا آپریشن ایران میں رجیم چینج کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس کا مقصد ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس آپریشن میں ہر امریکی دستہ شامل تھا اور اہداف پر بی ٹو اسٹیلتھ بمبار طیاروں کی مدد سے دو درجن ٹاماہاک میزائل فائر کیے گئے، امریکی جنرل ڈین کین کے مطابق بی ٹو طیاروں کو دیگر معاون طیاروں کی مدد بھی حاصل تھی۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل کو تمام اتحادیوں کی حمایت حاصل ہے اور دنیا کو امریکی صدر کی بات سننی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کو دھوکہ دیا، اب مذاکرات بے معنی ہو گئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صدر ٹرمپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔





