ٹرمپ نے ایران کو دھوکہ دیا، اب مذاکرات بے معنی ہو گئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

ٹرمپ نے ایران کو دھوکہ دیا، اب مذاکرات بے معنی ہو گئے ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے استنبول میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھوکہ دیا ہے اور مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔

عباس عراقچی نے کہا کہ جب ہم مذاکرات کر رہے تھے تو امریکی حملے ہوئے جن سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مذاکرات کے بجائے جارحیت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الزام لگایا کہ امریکا نے اسرائیل کو روکنے کی بجائے حملوں کو گرین سگنل دیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ان کے تباہ کن نتائج ہوں گے،  ایرانی عوام کے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ امریکی حملوں پر فوری اور موثر کارروائی کرے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ مسئلے کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ہم جھوٹے الزامات کی بنیاد پر لگنے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں، ایران نے گزشتہ بیس سال سے ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار نہیں۔

عراقچی نے مزید کہا اب ہم دیکھیں گے کہ سفارتکاری کے لیے کیا کچھ باقی بچا ہے پھر فیصلہ کریں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ صرف ایران نہیں بلکہ پوری دنیا کو بھی اس مسئلے پر متحد ہو کر ردعمل دینا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ایرانی صدر سے رابطہ، امریکی حملوں کی شدید مذمت

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے جوہری تنصیبات پر حملہ کر کے ایک ریڈ لائن کراس کی ہے جسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس کےدوران کہا کہ وہ ماسکو جا رہے ہیں جہاں وہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

Scroll to Top