امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں نظام حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ رجیم چینج کی اصطلاح شاید سیاسی طور پر درست نہ ہو، لیکن اگر ایرانی حکومت اپنے عوام کو وہ مقام نہیں دے سکتی جس کے وہ حقدار ہیں، تو پھر تبدیلی کیوں نہ ہو؟

ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ امریکی حملے کو شاندار فوجی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر کارروائی سے بم ان کے ہاتھوں سے چھین لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر انہیں موقع ملتا تو وہ یہ بم ضرور استعمال کرتے۔

انہوں نے امریکی فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ناقابلِ یقین فوج نے حیرت انگیز کام کیا، یہ واقعی خاص تھا۔

دوسری جانب بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور بعض یورپی طاقتیں برسوں سے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے راہ ہموار کر رہی ہیں، جنہیں مختلف سیاسی، نسلی اور لسانی گروہوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ بندی کے لیے مذاکرات جاری، پاکستان کلیدی سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، محمود جان بابر

اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کو داخلی سطح پر شدید معاشی دباؤ، ممکنہ عوامی احتجاج اور عالمی سطح پر سخت سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے پیش نظر ماہرین اس سوال پر غور کر رہے ہیں کہ اگر تہران میں حکومت تبدیل ہوتی ہے تو اقتدار کس کے ہاتھ جائے گا؟ اور آیا نیا نظام ایران میں استحکام لا سکے گا یا مزید کشیدگی جنم لے گی۔

Scroll to Top