ڈونلڈ ٹرمپ کی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایک بار پھر تعریف، بہترین شخصیت قرار دے دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سمٹ سے خطاب میں عالمی تنازعات، امن کوششوں اور دفاعی پالیسیوں پر اہم انکشافات کیے ہیں۔

خطاب کے دوران انہوں نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین شخص ہیں اور ان سے ملاقات کے دوران وہ بے حد متاثر ہوئے۔

ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جوہری جنگ کو انہوں نے فون کالز کے ذریعے روکا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک نیوکلیئر حملے کی تیاری میں تھے، لیکن جب ان سے کہا گیا کہ جنگ جاری رکھی تو تجارت نہیں ہوگی، تو دونوں ممالک نے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ کیا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازع پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر کامیاب حملہ کیا گیا، جس سے ایران کئی سال پیچھے چلا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : شہداء کا خون ہماری قومی قوت کی بنیاد ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

انہوں نے کہا کہ امریکی آبدوز سے ایرانی اہداف پر 30 میزائل داغے گئے، جو ہیروشیما اور ناگاساکی جیسے اثرات کا باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر ہمارے حملے نے جنگ کا خاتمہ کیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ قطر میں امریکی ایئر بیس پر ایران کی جانب سے فائر کیے گئے 14 میزائلوں کو کامیابی سے روک لیا گیا اور بیس کو پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا، اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل دونوں شدید جنگ کے بعد تھک چکے ہیں، اور اس وقت ایک شاندار فتح حاصل ہوئی ہے، لیکن خطرہ اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہامجھے یقین ہے فردو میں سب کچھ ختم ہوچکا ہے، لیکن تنازع دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔

چین، ایران اور امریکا کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران اگر تعمیر نو کے لیے پیسہ چاہتا ہے تو چین سے تیل بیچ کر لے سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ اگلے ہفتے بات چیت ممکن ہے، لیکن امریکا کسی معاہدے کا پابند نہیں۔ جنگ ختم ہوئی، یہی سب سے بڑی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ نامزد کر دیا گیا

یوکرین کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یوکرینی صدر سے ملاقات مثبت رہی، تاہم سیز فائر پر بات نہیں ہو سکی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ روس اور یوکرین کی جنگ ختم کرانا آسان نہیں۔

خطاب کے اختتام پر ٹرمپ نے نیٹو اتحادی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی جی ڈی پی کا کم از کم 5 فیصد دفاع پر خرچ کریں۔ ان کے مطابق دفاعی اخراجات کا بوجھ صرف امریکا پر نہیں ہونا چاہیے، تمام رکن ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Scroll to Top