جنید اکبر نے بجٹ منظوری سے قبل پارٹی قیادت کی جانب سے ہدایات نہ ملنے کا انکشاف کردیا

پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے بجٹ منظوری کے معاملے پر پارٹی قیادت پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں بجٹ منظور ہونے سے پہلے قیادت کی جانب سے کوئی واضح ہدایت نہیں دی گئی، جب کہ اسپیکر اسمبلی بار بار رہنمائی کے لیے قیادت سے رابطہ کرتے رہے۔

پختون ڈیجیٹل کو دیے گئے انٹرویو میں جنید اکبر کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے اگر بجٹ منظور نہ کرنے کا کہا تھا، تو بجٹ ہرگز پاس نہیں ہونا چاہیے تھا، مگر افسوس کی بات ہے کہ یہ باتیں بجٹ کے بعد سامنے آئیں، جو پہلے آنی چاہیے تھیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی ایم پی ایز نے مجھ سے رابطہ کیا کہ بجٹ پر ووٹ دیا جائے یا نہیں، مگر ہم سب خاموش تھے کیونکہ قیادت کی طرف سے کوئی واضح مؤقف یا ہدایت نہیں آئی۔ ان کے مطابق کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی میں فیصلے مخصوص سوچ کے تحت ہوتے ہیں، اور میں خود کافی عرصے سے ان اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتا۔

انہوں نے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کا جھکاؤ آئی ایم ایف کی طرف ہے، اور وہ سرپلس بجٹ پر فخر کر رہے ہیں، جو صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے عوام سے ووٹ لیے ہیں، عوام ہم سے پوچھے گی، فائنانس منسٹر سے نہیں۔

جنید اکبر نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کی پی ایس ڈی پی میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں رکھا گیا اور بجٹ کی تیاری میں ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مزمل اسلم نے پارٹی قیادت سے بھی مشورہ نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیں : خیبر پختونخوا کا بجٹ پاس نہ کرتےتو ایمرجنسی لگنے کا خطرہ تھا، تیمور سلیم جھگڑا

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کا واضح پیغام تھا کہ آئی ایم ایف کو نہیں، عوام کو دیکھنا ہے، مگر ہمیں وہ پیغام نہ وقت پر ملا، نہ درست طریقے سے۔

علیمہ خان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ وہ کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن عمران خان کو مائنس نہیں کیا جا سکتا، اور جو خان کو مائنس کرے گا، وہ خود مائنس ہو جائے گا۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں رہنا ہے، بھگتنا ہمیں ہے، مزمل اسلم آج یہاں ہے، کل آئی ایم ایف میں ہوگا، پرسوں ورلڈ بینک میں۔

Scroll to Top