سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ سے تھک چکا ہے اور اب اسے اپنی معیشت سنبھالنی ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جس ملک کو چاہے، چین سمیت کہیں بھی تیل بیچ سکتا ہے، امریکا اسے روکنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
نیٹو سمٹ کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا’’ہم ایران کو تیل بیچنے سے نہیں روکیں گے، کیونکہ اسے پیسوں کی ضرورت ہے، اور ہم تیل پر قبضہ نہیں کر رہے۔‘‘
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر وہ چاہیں تو ایران کی تیل فروخت پر روک لگا سکتے ہیں، لیکن یہ ان کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ ’’میں خود چین کو تیل بیچ سکتا ہوں، لیکن میں ایسا کرنا نہیں چاہتا، ٹرمپ نے طنزیہ انداز میں کہا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے اور دونوں فریق اب جنگ بندی سے مطمئن ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، دونوں فریق بہادری سے لڑے لیکن اب تھک چکے ہیں۔‘‘
سابق صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اگلے ہفتے ایران سے مذاکرات متوقع ہیں اور امکان ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے۔ تاہم انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ معاہدہ ان کے لیے ذاتی ترجیح نہیں۔ ’’میرے لیے معاہدہ ہو یا نہ ہو، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم جنگ لڑ چکے، اب اپنے راستے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روک دیا ہے، اور دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکا اب بھی اپنے دشمنوں کو روکنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سطح پر جاری سفارتی تناؤ میں ایک نرم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کی راہ میں کئی رکاوٹیں ابھی باقی ہیں۔





