پشاور (سلمان یوسفزئی )خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع میں آؤٹ سورس کیے گئے اسپتالوں کو گزشتہ چھ ماہ سے فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے جس کے باعث ان کی بندش کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے ان اسپتالوں کو مجموعی طور پر ایک ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے تاہم تاحال رقم جاری نہیں کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز نہ ہونے کے باعث نہ صرف اسپتالوں کی سروسز متاثر ہو رہی ہیں بلکہ ملازمین کو تنخواہیں بھی ادا نہیں کی گئیں جس سے عملے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
اسپتالوں کی انتظامیہ کے مطابق معیاری خدمات کی فراہمی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دستاویزات کے مطابق خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت صوبے کے 10 اضلاع میں 19 اسپتالوں کو آؤٹ سورس کیا تھا۔ ان میں سے آٹھ اسپتال 2020 میں تین سال کے لیے جبکہ 11 اسپتال 2022 میں پانچ سال کے لیے آؤٹ سورس کیے گئے تھے۔
متعلقہ نجی میڈیکل فاؤنڈیشن کے مینیجر اکمل خان نے کہا ہے کہ اگر جلد فنڈز جاری نہ کیے گئے تو آؤٹ سورس اسپتال چلانا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ فنڈز فوری طور پر فراہم کیے جائیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا ہیلتھ فاؤنڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر عدنان تاج کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر 2024 تک تمام واجب الادا فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق جنوری تا مارچ کی ادائیگیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ اپریل کے پہلے ہفتے میں بھی ادائیگی ہونی تھی۔ ایم ڈی ہیلتھ فاؤنڈیشن کے مطابق جنوری تا جون کی مکمل ادائیگی کا فیصلہ ہو چکا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد 15 جولائی سے قبل تمام واجبات ادا کر دیے جائیں گے





