خیبر پختونخوا میں اپوزیشن اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے کیلئے 20 ممبران کی دوری پر رہ گیا

 پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی میں اپوزیشن اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 20 ارکان کی کمی کا سامنا ہے۔

موجودہ صورتحال کے مطابق، پی ٹی آئی حکومت کے پاس 92 ممبران ہیں جبکہ اپوزیشن اتحاد کی تعداد 53 تک پہنچ چکی ہے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی میں کل 145 نشستیں ہیں جن میں سے 115 منتخب ممبران جبکہ 26 خواتین اور 4 اقلیتی نشستیں مختص ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں پر بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا، جس کے باعث اپوزیشن اتحاد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

جے یو آئی ف کے 7 منتخب ارکان کے ساتھ خواتین اور اقلیت کی مخصوص نشستیں شامل ہونے سے ان کی تعداد 19 ہوگئی ہے۔

مسلم لیگ ن کے 6 منتخب ممبران کو مخصوص نشستوں کے اضافے سے 15 ارکان پر پہنچ گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے منتخب ممبران کی تعداد 4 تھی جو مخصوص نشستوں کے اضافے کے بعد 11 ہوگئی ہے۔

اسی طرح پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کے ارکان کی تعداد 3 جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے بھی 3 ارکان ہیں۔ ایوان میں آزاد ارکان ہشام انعام اللہ اور علی ہادی کی حمایت بھی اپوزیشن اتحاد کے ساتھ ہے۔

ایوان میں سادہ اکثریت کے لیے 73 ارکان کی حمایت درکار ہے، اور اپوزیشن اتحاد کو 20 ارکان کی مزید ضرورت ہے۔ اپوزیشن لیڈر نے جیو نیوز کو بتایا کہ سادہ اکثریت کے لیے 18 سے 20 ارکان کی کمی ہے، تاہم ابھی تک اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں : ہیلی کاپٹر کے ذریعے سوات کا دورہ متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی ہے، ڈاکٹر عباد اللہ

انہوں نے بجٹ تقریر میں یہ واضح کیا کہ یہ پی ٹی آئی کا بارہواں اور آخری بجٹ ہوگا، اور اگر حکومت گورننس اور قانون و نظم پر توجہ دے تو اپوزیشن کو حکومت سے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔

Scroll to Top