ضم اضلاع کمیٹی کا پہلا اجلاس، خیبرپختونخوا کے تحفظات پر وفاق کی یقین دہانی

ضم اضلاع کمیٹی کا پہلا اجلاس، خیبرپختونخوا کے تحفظات پر وفاق کی یقین دہانی

ضم شدہ اضلاع سے متعلق قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ اجلاس میں خیبرپختونخوا کی جانب سے کمیٹی کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، جس پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرا دی۔

اجلاس امیر مقام کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے طریقہ کار، ارکان کے انتخاب اور فاٹا جرگہ کی بحالی سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے نمائندے بیرسٹر سیف، چیف سیکریٹری اور آئی جی خیبرپختونخوا نے بھی شرکت کی۔

نجی ٹی وی چینل (آج)کے مطابق اجلاس کے دوران بیرسٹر سیف اور کمیٹی چیئرمین امیر مقام کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ بیرسٹر سیف نے اعتراض اٹھایا کہ کمیٹی کی تشکیل میں خیبرپختونخوا کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور ارکان کے انتخاب کا کوئی واضح طریقہ موجود نہیں۔

بیرسٹر سیف کا مؤقف تھا کہ ضم شدہ اضلاع ایک حساس علاقہ ہیں اور وہاں سے متعلق کوئی بھی پالیسی صوبے کی مشاورت کے بغیر قابل قبول نہیں ہوگی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمیٹی کی تشکیل اور ارکان کے انتخاب پر نظرثانی کی جائے۔

صورتحال اس وقت قابو میں آئی جب وفاقی وزیر احسن اقبال نے مداخلت کرتے ہوئے کشیدگی کم کروائی۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال نے خیبرپختونخوا کے تمام تحفظات دور کرنے اور آئندہ مشاورت کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کرائی۔

یاد رہے کہ ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی امور، فنڈز کی تقسیم، اور جرگہ سسٹم کی بحالی پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان طویل عرصے سے مشاورت جاری ہے، تاہم اس اجلاس سے ان امور کو آگے بڑھانے میں اہم پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔

Scroll to Top