صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان اختیارات کی کشمکش جاری، حمایت اللہ مایار

مردان: میئر مردان حمایت اللہ مایار نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین نے مشکل ترین حالات میں انتخابات لڑے، جیلیں کاٹیں اور مقدمات کا سامنا کیا، جس کے باوجود وہ پارٹی کے ساتھ وفادار رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب انہیں ایسی کون سی لالچ دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنی وفاداری بدل لیں؟

انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت نے امن کو اولین ترجیح دی، سوات میں معاہدہ کیا گیا، لیکن جب شدت پسند ریاست کے اندر ریاست چاہتے تھے تو پارلیمنٹ سے منظوری لے کر آپریشن کیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد ملاکنڈ ڈویژن اور جنوبی اضلاع میں امن قائم ہوا اور صوبے کو اپنے حقوق بھی دلائے گئے۔

حمایت اللہ مایار نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے اراکین اور بلدیاتی نمائندوں کے درمیان ہمیشہ اختیارات کی کشمکش رہی ہے۔ صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اپنایا اور ان سے اختیارات چھین لیے گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی آئین اور قانون کی بات ضرور کرتی ہے، لیکن صرف اپنے فائدے کے لیے، دوسروں کے لیے نہیں۔

انہوں نے آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہونے کی بات کرتے ہوئے کہا کہ اس آزادی کے ساتھ قانونی حدود بھی واضح ہیں۔

مایار نے کہا کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ احتجاج میں جو کچھ کیا، اس کے نتائج سب کے سامنے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ پی ٹی آئی دیگر سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا راستہ اپنائے اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی خواتین کی نمائندگی میں مکمل طور پر ناکام، کابینہ اور بجٹ میں نظرانداز، پی پی آسیہ جہانگیر

میئر مردان نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی ردعمل دیا اور کہا کہ مخصوص نشستوں کے معاملے میں ایک تکنیکی مسئلہ ہے کیونکہ سنی اتحاد کونسل نے مخصوص نشستوں کی فہرست جمع نہیں کروائی تھی، تاہم عدالت نے پہلے پی ٹی آئی کی حیثیت بحال کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور اسی موقف پر قائم ہیں۔

Scroll to Top