ن لیگ کا مخصوص نشستوں پر اعتراض، پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی دائر کردہ درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے اسپیشل سیکریٹری لاء محمد ارشد، وکیل الیکشن کمیشن محسن کامران، مسلم لیگ (ن) کے وکلاء عامر جاوید، بیرسٹر ثاقب رضا، جے یو آئی کے وکیل نوید اختر اور دیگر متعلقہ فریقین عدالت میں پیش ہوئے۔

نجی ٹی وی چینل (دنیا نیوز)کے مطابق درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کی تقسیم کرتے وقت مسلم لیگ ن کے ارکان کی غلط گنتی کی۔ ان کے مطابق پارٹی نے 8 فروری کے انتخابات میں پانچ جنرل نشستیں جیتیں، جب کہ آزاد امیدوار حسام انعام اللہ نے مقررہ وقت میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جس سے پارٹی کی نشستوں کی کل تعداد 7 ہوگئی۔

وکیل کے مطابق، الیکشن کمیشن نے 22 فروری کو مخصوص نشستیں تقسیم کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی 6 نشستوں کی بنیاد پر کی، جب کہ حقیقتاً وہ 7 نشستوں کی حقدار تھی۔ مزید یہ کہ اقلیتی نشستوں کی تقسیم میں بھی مسلم لیگ (ن) کو نظر انداز کیا گیا اور ملک طارق اعوان کو ایک نشست پر پارٹی کا نمائندہ شمار کیا گیا، جب کہ دوسری طرف انہیں خواتین کی مخصوص نشستوں کے لیے آزاد قرار دیا گیا۔

عدالت نے فریقین سے پوچھا کہ مخصوص نشستوں کی تقسیم ایسے وقت کیسے کی جا سکتی ہے جب پراسس مکمل نہ ہوا ہو؟ اس پر الیکشن کمیشن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسمبلی کا اجلاس الیکشن کے 21 دن بعد بلانا لازمی ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کی گئی۔

جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ اگر 22 فروری کو ہی مخصوص نشستوں کی مکمل تقسیم کی جاتی تو معاملہ مختلف ہوتا، لیکن بعد کی تقسیم نے قانونی سوالات کو جنم دیا ہے۔

دالت نے ریمارکس دیے کہ متعلقہ فریقین کو مناسب وقت میں پارٹی جوائن کرنے کے باوجود آزاد قرار دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے درخواست کی کہ اگر عدالت مناسب سمجھے تو معاملہ تین دن میں فیصلہ کرنے کے لیے دوبارہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا جائے، تاکہ سینیٹ انتخابات میں کوئی خلل نہ آئے۔سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا، جو مقررہ وقت پر سنایا جائے گا۔

Scroll to Top