جب تک مسئلے کی جڑ ختم نہیں ہوتی، پاراچنار میں پائیدار امن ممکن نہیں، طارق وحید

پاراچنار(ضلع کرم) :ضلع کرم کے حساس علاقے پاراچنار میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے جاری اقدامات کے تحت تقریباً 700 بنکرز اور مورچوں کو مسمار کر دیا گیا ہے۔

سینیئر صحافی طارق وحید کے مطابق بنکرز کی مسماری کا عمل 60 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے، تاہم باقی ماندہ 40 فیصد علاقے میں موجود تنازع ہی دراصل مسئلے کی جڑ ہے۔

سینیئر صحافی طارق وحید نے پختون ڈیجیٹل پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان باقی علاقوں میں موجود مسلح انفراسٹرکچر کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک امن کی ضمانت دینا ممکن نہیں۔ ماضی میں بھی کئی بار عارضی فائر بندی ہوئی، لیکن ان کا انجام پائیدار امن کی صورت میں نہیں نکل سکا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت اور ذمہ دار ادارے اس مسئلے کے مکمل حل میں ناکام رہے تو مستقبل میں دوبارہ کشیدگی بھڑکنے کا خدشہ موجود رہے گا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ان مسائل کے دیرپا حل کے لیے ایک ہائی پاور لینڈ کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے پروپوزل تیار کر لیا گیا ہے۔

یہ کمیشن مکمل اختیارات کا حامل ہوگا اور اس کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔ کمیشن کا مقصد قبائلی علاقوں، خصوصاً پاراچنار جیسے حساس علاقوں میں زمینوں اور وسائل کے تنازعات کو حتمی اور منصفانہ طور پر حل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  : امریکی صدر نے برازیل سے درآمد ہونے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا

طارق وحید نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اختیارات رکھنے والے افراد پاراچنار جیسے سنگین مسئلے کا مستقل حل تلاش نہ کر سکے تو یہ نہ صرف ناکامی ہوگی بلکہ ایک بڑے انسانی المیے کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔

ان کے مطابق حکومت کو فوری طور پر سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ دیر ہو چکی ہوگی۔

Scroll to Top