خیبرپختونخوا میں سیاحت سے معاشی ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں، ڈی جی ٹورازم

خیبرپختونخوا میں سیاحت سے معاشی ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں، ڈی جی ٹورازم

خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ٹورازم حبیب عارف نے کہا ہے کہ سیاحت کے فروغ سے نہ صرف صوبے کی معیشت میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک کی معیشت سیاحت پر انحصار کرتی ہے اور خیبرپختونخوا میں بھی اس شعبے میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔

ڈی جی ٹورازم نے کہا کہ اپر چترال کا معروف پہاڑ تریچ میر دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں شمار ہوتا ہے اور ہر سال مختلف ممالک سے ہائیکرز یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

حبیب عارف نے کہا کہ صرف غیر ملکی ہائیکرز کی آمد سے صوبے کو سالانہ پانچ لاکھ ڈالرز کا ریونیو حاصل ہوتا ہے جو براہ راست حکومتی خزانے میں جاتا ہے۔

ڈی ٹورازم کا کہنا ہے کہ 13 جولائی سے صوبے میں ہائیکنگ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو تربیت دے کر باعزت روزگار فراہم کرنا ہے۔

 خواتین کی شمولیت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ 20 نشستوں پر مشتمل خواتین کے لیے مخصوص تربیتی پروگرام کے لیے 100 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور اگست میں خواتین کے لیے علیحدہ ہائیکنگ ٹریننگ پروگرام کا آغاز کیا جائے گا۔

حبیب عارف نے مزید کہا کہ تریچ میر میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور سوات سانحے کے باوجود سیاحتی سرگرمیوں میں کسی قسم کی کمی نہیں آئی۔

ناران، کاغان اور دیگر سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں میں کمروں کی عدم دستیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاحت کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطری شہزادی اسما الثانی پاکستان کی پہاڑوں اور سیاحت کی برانڈ ایمبیسڈر مقرر

سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ڈی جی ٹورازم نے کہا کہ سیاحوں کے مسائل کے فوری حل کے لیے ٹورازم پولیس کا نظام فعال کیا گیا ہے تاکہ محفوظ اور خوشگوار سیاحتی ماحول یقینی بنایا جا سکے۔

خیبرپختونخوا کے ڈائریکٹر جنرل ٹورازم حبیب عارف نے نے مزید کہا کہ سیاحت سے نہ صرف حکومت بلکہ مقامی افراد بھی براہِ راست مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔

Scroll to Top