سینیٹ انتخابات میں مخصوص نشستوں پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی، اختلافات کھل کر سامنے آ گئے

پشاور :خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کے مخصوص نشستوں کے بعد سیاسی صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔ اپوزیشن میں تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نشستیں تقسیم تو ہو گئی ہیں، لیکن خود اپوزیشن جماعتوں کے درمیان ان نشستوں پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

سابق صوبائی وزیر اجمل وزیر نے پختون ڈیجیٹل پوڈ کاسٹ میں انکشاف کیا کہ علی امین گنڈاپور اس وقت تک وزیراعلیٰ رہیں گے جب تک عمران خان چاہیں گے، اور بیرسٹر سیف کے خلاف بھی بڑی باتیں ہو رہی ہیں۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کسی سے خوش ہیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ انتخابات کے دوران ہارس ٹریڈنگ کا عمل معمول کا حصہ رہا ہے اور ہر دور میں یہ دیکھا گیا ہے۔

حافظ حمد اللہ کے مطابق ایک ووٹ کی قیمت 22 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، اس لیے حکومت اور اپوزیشن کو مل بیٹھ کر معاملات حل کرنا چاہیئں۔

یہ بھی پڑھیں : بانی پی ٹی آئی نے پارٹی رہنماؤں کو بیان بازی سے روک دیا

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے ن لیگ سے شکایات بھی کی ہیں اور ابھی تک نئے اراکین نے حلف نہیں لیا ہے، جس کی وجہ سے انتخابات کے ملتوی ہونے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ موجودہ کشیدگی اور اختلافات کی وجہ سے سینیٹ انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے، جس سے ملکی سیاسی صورت حال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

Scroll to Top