وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں کی کارکردگی اب ہر دو ماہ بعد باقاعدگی سے جانچی جائے گی، اور جہاں بہتر نتائج سامنے آئیں گے وہاں تعریف کی جائے گی، لیکن جہاں غفلت یا کوتاہی پائی گئی، وہاں سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نجی ٹی وی چینل (آج)کے مطابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’’کسی کو جھوٹا تاثر قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اصل معیار صرف اور صرف حقیقی کارکردگی ہو گی۔ جو وزارتیں معیار پر پورا اتریں گی وہ ہمارے سروں کا تاج ہوں گی، جبکہ ناقص کارکردگی دکھانے والوں کو احساس دلایا جائے گا۔‘‘
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے محرم الحرام کے دوران ملک بھر میں مجالس اور جلوسوں کے پُرامن اور منظم انعقاد پر تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور متعلقہ اداروں کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے اس عمل کو ’’قومی اتحاد، وحدت اور بھائی چارے کا مظہر‘‘قرار دیا اور کہا کہ اس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین مثالی تعاون کلیدی رہا۔
وزیراعظم نے حالیہ بارشوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور بتایا کہ انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) سے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے ایک فعال ادارہ بن چکا ہے، تاہم سوات میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مزید مؤثر تیاری کی ضرورت ہے۔
ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جو ملک میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام اداروں کے ساتھ مل کر معاشی استحکام اور ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی کارکردگی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگرچہ ان پر سوالات اٹھ رہے تھے، مگر انہوں نے ترقیاتی بجٹ کو 10 کھرب روپے سے تجاوز کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ یہ ان کی محنت اور عزم کا ثبوت ہے، اور وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔‘‘
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’’کام، خدمت اور شفافیت ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کارکردگی کے حوالے سے کوئی جھوٹ یا فریب دہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ہر وزارت اور ہر فرد جواب دہ ہو گا۔‘‘





