متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے 2021 میں امریکا کے مطالبے پر عارضی طور پر منتقل کیے گئے افغان باشندوں کی اپنے وطن واپسی کا مرحلہ وار عمل شروع کر دیا ہے۔
عرب اور مغربی میڈیا کے مطابق اماراتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ افغان شہریوں کی ملک بدری کا یہ عمل 10 جولائی سے شروع ہوا، جس سے واشنگٹن کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق یہ افغان شہری ان ہزاروں افراد میں شامل تھے جنہیں امریکا کے انخلا کے دوران افغانستان سے نکال کر عارضی طور پر یو اے ای منتقل کیا گیا تھا۔ ان میں خواتین، بچے، انسانی حقوق کے کارکنان اور سابق افغان حکومت سے منسلک افراد شامل تھے، جو طالبان حکومت کے دوران خطرات کا شکار سمجھے جاتے ہیں۔
دوسری جانب امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو جاری بیان میں کہا کہ وہ ان افغان شہریوں کی مدد کرنے کی کوشش کریں گے جو برسوں سے امارات میں زیر حراست ہیں۔
امریکی ڈیموکریٹس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ان افغان شہریوں کو دوبارہ خصوصی حفاظتی حیثیت دی جائے، کیونکہ طالبان حکومت میں انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
افغانستان میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور انسانی حقوق کی مجموعی صورتِ حال کے پیش نظر، یو اے ای کے اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیمیں تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔





