اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے 9 مئی کیسز میں سنائی جانے والی تمام سزاؤں کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو شیر پاؤ پل پر ہوئے واقعے کے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، حمزہ عظیم اور دیگر 4 ملزمان کو بری کر دیا ہے، جبکہ 9 ملزمان کو جرم ثابت ہونے پر 10 سال قید کی سزا دی گئی ہے۔
سزا پانے والوں میں سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، خالد قیوم، ریاض حسین، علی حسن اور افضال عظیم شامل ہیں۔
اس سے قبل سرگودھا کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی کے 32 کارکنوں کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد بھچر کو بھی 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کا ردعمل پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے بھی متنازعہ فیصلے ہوتے رہے ہیں اور آج ایک اور متنازعہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر رہنماؤں نے شفاف ٹرائل کا مطالبہ کیا تھا لیکن ایک کیس کے مختلف مقامات پر الگ الگ ٹرائلز ہوئے جو قانونی تقاضوں کے خلاف ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر پنجاب اور دیگر تین ارکان پارلیمنٹ کو سزا دی گئی، جو عدلیہ کی ذمہ داریوں میں ناکامی کا ثبوت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : 9 مئی کیس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزاؤں پر چیئرمین بیرسٹر گوہر کا ردعمل سامنے آگیا
انہوں نے مزید کہا کہ قانونی تقاضے پورے کیے بغیر راتوں رات فیصلے سنانا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے اور عوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔
سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پنجاب میں 9 مئی کے مقدمات میں مختلف جگہوں پر ایک ہی گواہ سے الزام لگایا گیا، یہ معاملہ صرف پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ پورے ملک اور قوم کا مستقبل ہے۔
رہنما بابر اعوان نے کہا کہ سزا پانے والے بے گناہ ہیں اور دہشت گردی کے قانون کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے کیونکہ جلسے جلوس پر دہشت گردی کا قانون لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور سزاؤں سے تحریک انصاف کے راستے کو نہیں روکا جا سکتا۔





