گلگت بلتستان: بابوسر ٹاپ پر اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث پھنسے ہوئے 250 سے زائد سیاحوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے، جبکہ 10 سے 15 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق کے مطابق وزیراعلیٰ کی خصوصی ہدایت پر ریسکیو آپریشن جاری رکھا جائے گا جب تک تمام لاپتہ افراد کو بازیاب نہیں کر لیا جاتا۔ چلاس شہر میں متاثرہ سیاحوں کے لیے مفت رہائش فراہم کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ استور کے علاقے بولن میں بھی سیلابی ریلوں نے شدید تباہی مچائی ہے، جہاں نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ خراب موسم اور رات کی تاریکی کے باعث ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
فیض اللہ فراق کے مطابق دیوسائی کے علاقے میں پھنسے تمام سیاحوں کو بھی بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں دیامر کے تھور اور غذر کے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر بارشوں کا امکان، محکمہ سیاحت کی جانب سے الرٹ جاری
ڈپٹی کمشنر استور سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور امدادی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر جاری رکھا گیا ہے۔





