اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا دفعہ 342 کے تحت بیان ایک بار پھر قلمبند نہ ہو سکا۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے کی۔
قومی اخبار(روزنامہ جنگ ویب سائٹ )کے مطابق سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا شاہ فیصل اور وکیل ظہور الحسن عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ علی امین گنڈاپور کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست جمع کرائی گئی۔
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے عدالت کو بتایا کہ آج خیبرپختونخوا میں ایک اہم ’’گرینڈ جرگہ‘‘منعقد ہو رہا ہے جس میں ملک بھر سے اہم قبائلی اور سیاسی شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی مصروفیات کے باعث وہ عدالت میں پیش نہیں ہو سکے، لہٰذا سماعت ستمبر تک ملتوی کی جائے۔
عدالت نے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ آج کی کارروائی کا حکمنامہ بھی ملاحظہ کر لیں۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف یہ کیس اسلحہ اور شراب کی مبینہ برآمدگی کے حوالے سے درج ہے، تاہم وزیراعلیٰ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔





