وفاقی دارالحکومت کی مختلف عدالتوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قائدین اور کارکنان کے خلاف درج متعدد احتجاجی مقدمات کی سماعتیں ہوئیں، جہاں چند اہم عدالتی فیصلے اور قانونی پیشرفت سامنے آئی۔
نجی ٹی وی چینل (آج نیوز )کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں زیر سماعت مقدمات نمبر 976 اور 977 میں جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے پی ٹی آئی کے چھ کارکنان کی چھ، چھ ماہ قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ان کی ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے 20،000 روپے کے مچلکوں کے عوض رہائی کی اجازت دی۔
دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں جج طاہر عباس سپرا نے پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف مختلف مقدمات کی سماعت کی۔ ان مقدمات میں:۔
بانی پی ٹی آئی کی نااہلی کے خلاف احتجاج کا کیس
26 نومبر کے احتجاج میں رینجرز اہلکاروں کو مبینہ طور پر گاڑی تلے کچلنے کا مقدمہ
غیر حاضر ملزمان سے متعلق کارروائیاں
بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث مقدمے میں کوئی پیش رفت نہ ہوسکی۔ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ’’ملزم کی غیر موجودگی کے باوجود ٹرائل کی نظیر موجود ہے‘‘، جبکہ وکیل صفائی نے اس موقف کی مخالفت کی۔ عدالت نے سماعت 29 جولائی تک ملتوی کر دی۔
اسی عدالت میں 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق کیس میں غیر حاضر ملزمان کے ضمانتی مچلکے ضبط کر لیے گئے اور ان کے ضمانتیوں کو نوٹسز جاری کیے گئے، جبکہ ملزمان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے گئے۔ اس مقدمے کی اگلی سماعت 31 جولائی کو ہوگی۔
احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں کو مبینہ طور پر گاڑی تلے کچلنے کے کیس میں مرکزی ملزم ہاشم عباسی نے عدالت سے ٹرائل روکنے کی درخواست دائر کی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ وہ ذہنی توازن کے مسائل کا شکار ہے۔ عدالت نے دلائل آئندہ سماعت پر سننے کا فیصلہ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی۔
یہ تمام مقدمات تھانہ سنگجانی، سیکرٹریٹ اور رمنا میں درج کیے گئے تھے جن میں بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور سمیت دیگر اہم رہنما اور کارکنان نامزد ہیں۔





