ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے باعث ناسا کے 4,000 ملازمین مستعفی

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے باعث ناسا کے 4,000 ملازمین مستعفی

امریکا کے خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کو تاریخ کی ایک بڑی تبدیلی کا سامنا ہے کیونکہ تقریباً 4,000 ملازمین نے ٹرمپ انتظامیہ کے ڈفرڈ ریزائنیشن پروگرام کے تحت ادارہ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس فیصلے کے نتیجے میں ناسا کی افرادی قوت میں 20 فیصد سے زائد کمی متوقع ہے جس کے بعد مجموعی عملہ تقریباً 14,000 افراد پر محدود ہو جائے گا۔

ڈفرڈ ریزائنیشن پروگرام کے تحت ملازمین کو ایک طے شدہ تاریخ تک تنخواہ کے ساتھ انتظامی رخصت پر رکھا جاتا ہے جس کے بعد وہ ادارہ باضابطہ طور پر چھوڑ دیتے ہیں، یہ پروگرام ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اداروں کے اخراجات میں کمی کے تحت متعارف کروایا گیا ہے۔

ناسا کے ملازمین کو اس پروگرام میں شامل ہونے کے دو مواقع دیے گئے تھے، پہلے مرحلے میں جو فروری میں مکمل ہواجس میں  تقریباً 870 ملازمین نے شرکت کی  جو کہ یعنی 4.8 فیصد بنتا ہے۔

 دوسرے مرحلے میں جو 26 فروری کی شب مکمل ہوا اور اس میں 3,000 ملازمین جس کا 16.4 فیصد  ہے نے شرکت کی، اس تعداد میں دو دیگر رضاکارانہ سکیموں میں شامل افراد بھی شریک ہیں۔

حتمی اعداد و شمار آئندہ ہفتوں میں قدرے تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ بعض ملازمین استعفے واپس لے سکتے ہیں یا ان کی درخواستیں مسترد ہو سکتی ہیں۔

ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ناسا کے تقریباً 500 ملازمین معمول کی ریٹائرمنٹ یا دیگر وجوہات کے تحت ادارہ چھوڑ چکے ہیں، ان سب کو شامل کر کے ناسا کی افرادی قوت 9 جنوری 2026 تک کم ہو کر صرف 14,000 رہ جائے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق ڈفرڈ ریزائنیشن پروگرام اور اس سے منسلک پروگراموں کی وجہ سے ناسا کی مجموعی افرادی قوت میں 21 فیصد کمی واقع ہوگی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے 2026 کے بجٹ میں ناسا کی مجموعی فنڈنگ میں 24 فیصد کمی کی تجویز دی ہے جبکہ سائنس بجٹ میں تقریباً 50 فیصد کٹوتی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان اقدامات پر ناسا کے سائنسدانوں، انجینئرز اور خلائی سائنس کے حامی شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے عالمی سائنسی میدان میں نیا سنگ میل عبور کرلیا

حالیہ دنوں میں ناسا کے تقریباً 300 سائنسدانوں نے ایک مشترکہ اعلامیہ وویجر ڈیکلیئریشن پر دستخط کیے ہیں جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ مجوزہ بجٹ کٹوتیاں امریکی سائنسی ترقی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہیں اور خلابازوں کی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔

Scroll to Top