اورکزئی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث 3 مزدور جاں بحق

اورکزئی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث 3 مزدور جاں بحق

قبائلی ضلع اورکزئی کے علاقے کریز میں واقع جنگل لیز مائن نمبر 3 میں زہریلی گیس کے اخراج کے باعث کوئلے کی کان میں کام کرنے والے تین مزدور دم گھٹنے سے جاں بحق ہو گئے۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب کان کے اندر گیس لیک ہونے سے اچانک دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں زہریلی گیس کان میں بھر گئی، مقامی افراد پولیس اور ریسکیو ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں تاہم مزدوروں کو زندہ نکالنے میں کامیابی نہ ہو سکی۔

جاں بحق افراد کی شناخت رحیم اللہ، اسلم خان اور شیر رحمان کے ناموں سے ہوئی ہے، جو تمام ضلع شانگلہ کے رہائشی تھے۔

یہ واقعہ پاکستان میں کان کنی کے خطرناک اور غیر محفوظ حالات کی عکاسی کرتا ہے جہاں 3 لاکھ سے زائد مزدور پانچ ہزار کانوں میں کام کرتے ہیں مگر یہ شعبہ جی ڈی پی میں صرف 3 فیصد حصہ ڈالتا ہے۔

شانگلہ جو کان کنوں کا بڑا مرکز ہے جہاں ہر سال 300 مزدور جاں بحق اور 50 مستقل معذور ہو جاتے ہیں، 30 ہزار بیوائیں اور 80 ہزار یتیم کان کنی حادثات کا نتیجہ ہیں۔

مالکان صرف 5 لاکھ روپے فی موت معاوضہ دیتے ہیں جبکہ 46.5 ارب روپے کے فلاحی فنڈز اکثر متاثرین تک نہیں پہنچتے۔

یہ بھی پڑھیں: مردان میں پرانی دشمن پر رشتہ داروں میں گولیاں چل گئیں

یہ صورتحال 1923 کے مزدور قوانین کی مسلسل خلاف ورزی اور حکومتی غفلت کی عکاس ہے جہاں گزشتہ چند برسوں میں 160 سے زائد حادثات میں 400 سے زیادہ مزدور جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

Scroll to Top