انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے فیض آباد دھرنے سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو بدستور اشتہاری ملزم قرار دیتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دے دیا ہے۔
قومی اخبار (روزنامہ جنگ ویب سائٹ)کے مطابق عدالت نے اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کرے۔ کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جنہوں نے ریمارکس دیے کہ اگر پشاور ہائی کورٹ کا کوئی حکم موجود ہے تو اس پر عمل کیا جائے، بصورتِ دیگر اسلام آباد پولیس وارنٹ پر عملدرآمد یقینی بنائے۔
عدالت نے وکلاء کی درخواست پر کیس کی سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی ہے۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور اور دیگر کے خلاف یہ مقدمہ تھانہ انڈسٹریل ایریا اسلام آباد میں درج ہے، جو کہ 2022 میں پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی نااہلی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران درج کیا گیا تھا۔
عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کے احکامات کے بعد، علی امین گنڈاپور کی قانونی ٹیم کی آئندہ لائحہ عمل پر نظریں مرکوز ہو گئی ہیں، جبکہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر مکمل عمل کیا جائے گا۔





