چارسدہ میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی شرح میں خطرناک اضافہ، ایک ماہ میں 176 کیسز رپورٹ

چارسدہ میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی شرح میں خطرناک اضافہ، ایک ماہ میں 176 کیسز رپورٹ

خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں ہیپاٹائٹس بی اور سی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے، صرف جولائی کے مہینے میں مختلف ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 176 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان کیسز میں 151 افراد ہیپاٹائٹس سی جبکہ 25 افراد ہیپاٹائٹس بی سے متاثر پائے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کے پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق جولائی کے مہینے میں 1371 افراد کے ہیپاٹائٹس ٹیسٹ کیے گئے جن میں 95 کیسز ہیپاٹائٹس سی اور 21 کیسز ہیپاٹائٹس بی کے سامنے آئے۔

اسی طرح وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال رجڑ، تحصیل ہسپتال تنگی اور تحصیل ہسپتال شبقدر میں 2058 افراد کی سکریننگ کی گئی جن میں سے 56 افراد ہیپاٹائٹس سی اور 4 افراد ہیپاٹائٹس بی سے متاثر پائے گئے۔

چارسدہ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹر اشفاق کے مطابق ہیپاٹائٹس کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں آلودہ پانی کا استعمال، ناقص معیار کی خوراک، ذاتی صفائی کا فقدان، استعمال شدہ سرنجز کا دوبارہ استعمال، جراثیم سے پاک نہ کیے گئے آلاتِ جراحی اور دانتوں کے اوزار، حجامت کے دوران نیا بلیڈ استعمال نہ کرنا اور متاثرہ فرد سے احتیاط کے بغیر جنسی تعلقات شامل ہیں جو اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بنتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس کے ضلعی فوکل پرسن ڈاکٹر ذیشان کا کہنا ہے کہ چارسدہ کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ہیپاٹائٹس کی مانیٹرنگ اور ٹیسٹ کی سہولیات موجود ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے تھے لیکن اب سخت نگرانی کے باعث ماہانہ ہزاروں افراد کی سکریننگ کی جاتی ہے اور متاثرہ مریضوں کو بروقت علاج فراہم کیا جاتا ہے۔

ہر سال 28 جولائی کو عالمی یومِ ہیپاٹائٹس منایا جاتا ہے تاہم گزشتہ تین سال سے فنڈز کی کمی کے باعث ضلع چارسدہ میں اس حوالے سے کوئی سیمینار یا آگاہی مہم منعقد نہیں کی جا سکی، ماہرین صحت کے مطابق عوام میں احتیاطی تدابیر کے حوالے سے شعور کی کمی ہی اس مرض کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں پولیو کا نیا کیس سامنے آگیا

پاکستان بھر میں ہر سال ہیپاٹائٹس سے تقریباً 19 ہزار اموات واقع ہوتی ہیں جو کہ اس بیماری کی شدت اور فوری توجہ کے متقاضی ہے۔

Scroll to Top