باجوڑ : باجوڑ میں جاری امن جرگے کا ساتواں راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے تاہم فریقین کے درمیان ایک اہم نکتے پر اختلاف برقرار رہنے کے باعث مذاکرات میں ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ہے۔
امن جرگے کے سربراہ صاحبزادہ ہارون الرشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقوں سے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ لوگوں کی امیدیں اس جرگے سے وابستہ تھیں، لیکن اب وہ مایوس نظر آ رہی ہیں۔
ان کے مطابق فریقین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی ممکنہ جھڑپ یا کشیدگی کی صورت میں شہریوں کے جان و مال کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
صاحبزادہ ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ جرگہ آئندہ بھی امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے، اور اس سلسلے میں افغان حکومت سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے باجوڑ امن جرگے کو 9 اگست 2025 کو وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تحریک انصاف اپنی سیاست خود کیسے داؤ پر لگا رہی ہے؟ عطا تارڑ نے بھانڈا پھوڑ دیا
یاد رہے کہ 3 اگست 2025 کو امن جرگے نے اعلان کیا تھا کہ دونوں فریقین نے مکمل فائربندی پر اتفاق کیا ہے اور مذاکرات کے لیے شام 6 بجے تک مہلت دی گئی تھی۔
تاہم تازہ ترین مذاکرات میں کسی بھی قابل ذکر پیش رفت نہ ہونے سے صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہو گئی ہے۔





