انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان کی جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور دیگر جلاؤ گھیراؤ کیسز میں عبوری ضمانت کی درخواستیں خارج کر دیں۔ عدالت نے درخواست گزار کی عدم پیشی کو بنیاد بناتے ہوئے ضمانتیں مسترد کیں، جبکہ ایک روزہ حاضری معافی کی استدعا بھی رد کر دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل (سما نیوز)کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے کیسز کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ جب درخواست گزار خود پیش نہیں ہوتا تو ضمانت کے حق سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔
عمر ایوب نے مذکورہ کیسز میں پہلے عبوری ضمانت حاصل کر رکھی تھی، تاہم آج وہ عدالت میں پیش نہ ہو سکے جس کے باعث عدالت نے تینوں مقدمات میں ان کی ضمانتیں کالعدم قرار دے دیں۔
یاد رہے کہ 9 مئی کے پرتشدد واقعات، جن میں جناح ہاؤس، عسکری ٹاور اور دیگر اہم مقامات پر حملے شامل تھے، ان ہی واقعات کے سلسلے میں عمر ایوب، شبلی فراز، زرتاج گل، اور صاحبزادہ حامد رضا سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔
ان عدالتی فیصلوں کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے تمام سزا یافتہ رہنماؤں کو نااہل قرار دے دیا۔ عمر ایوب کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے منصب سے ہٹا دیا گیا، جبکہ شبلی فراز کو سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی حیثیت
سے فارغ کیا گیا۔ دیگر ارکان کی قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت بھی ختم کر دی گئی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ عمر ایوب اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں کے لیے قانونی و سیاسی محاذ پر ایک بڑا دھچکہ ہے، جو نہ صرف پارٹی کی صفوں میں بے چینی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اپوزیشن کے پارلیمانی کردار پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔





