امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیے سفارتی اور سیاسی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق اگرچہ امریکا اور بھارت کے درمیان تجارتی تنازع کسی حد تک حل ہو چکا ہے تاہم دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کا فقدان بدستور برقرار ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بھارت پر عائد ٹیرف کو 50 فیصد تک بڑھایا اور بھارتی معیشت کو “مردہ” قرار دیا جو کہ نئی دہلی کے لیے ایک بڑا سفارتی جھٹکا تھا۔
اخبار کے مطابق مودی نے خود بھی تسلیم کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری تجارتی کشمکش انہیں اندرونِ ملک سیاسی قیمت چکانے پر مجبور کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران جنگ بندی کا دعویٰ کیا تو پاکستان نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور ٹرمپ کو امن کوششوں پر نوبیل انعام کے لیے نامزد بھی کیا گیا، بھارت نے نہ صرف جنگ بندی کے امریکی دعوے کو مسترد کیا بلکہ اسے سفارتی لحاظ سے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت کے باوجود عالمی سطح پر اس کی کمزوریاں واضح ہو چکی ہیں، خارجہ پالیسی کے محاذ پر بھی نئی دہلی کو چیلنجز کا سامنا ہے، چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بھارتی کوششیں اب تک خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی بھارت کے خلاف نئی تجارتی جنگ، بھارتی ریفائنریز نشانے پر
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ چین نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا جو بھارت کی علاقائی سفارتی حکمت عملی کے لیے ایک اور دھچکا ہے۔





