گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر طنزیہ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’’اچھے بچے‘‘ ہیں اور اسلام آباد سے جو ٹاسک دیا جاتا ہے، اسے من و عن پورا کرتے ہیں۔
نجی ٹی وی چینل (جیو نیوز)کے مطابق گورنر نے کہا کہ ’’چاہے قلعہ بالاحصار سے پیچھے ہٹنا ہو یا ڈی چوک سے، گنڈاپور ہر موقع پر ہدایت کے مطابق عمل کرتے ہیں۔’’انہوں نے واضح کیا کہ جیسے ہی عددی اکثریت حاصل ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی۔
فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے حالیہ سینیٹرز سے متعلق بھی بڑا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے چھ منتخب سینیٹرز میں سے ایک تو حلف اٹھانے کے لیے دستیاب ہی نہیں، جبکہ باقی پانچ میں سے بھی ایک سینیٹر ان کے ساتھ ہے اور وقت آنے پر ان کے حق میں ووٹ دے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی قیادت کبھی این آر او نہ دینے کی بات کرتی تھی، لیکن اب حالات ایسے ہیں کہ انہیں خواب میں بھی این آر او نظر آ رہا ہے۔ گورنر نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ صوبائی حکومت گرانے کی کسی سازش کا حصہ ہیں۔
فیصل کریم کنڈی کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور صوبے میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔





