تہران: ایران نے اپنی کرنسی “ریال” کی قدر کو بحال کرنے اور مالیاتی نظام کو آسان بنانے کے لیے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے ریال سے چار صفر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق، صدر مسعود پزشکیان کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں اس منصوبے کو اکثریتی رائے سے منظور کیا گیا۔
منظوری سے قبل اس بل پر تفصیلی مشاورت اور جائزہ لیا گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی نے کرنسی میں اصلاحات کی اس تجویز کو قابلِ عمل قرار دیا تھا، جس کا بنیادی مقصد مالی لین دین کو سہل بنانا اور کاغذی کرنسی کی پیچیدگی کو کم کرنا ہے۔
تبدیلی کے بعد “ریال” ایران کی سرکاری کرنسی تو بدستور برقرار رہے گی، مگر ہر نیا ریال 10 ہزار پرانے ریال کے برابر تصور کیا جائے گا۔ نیا ریال 100 “قیران” پر مشتمل ہوگا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران کو طویل عرصے سے مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں کمی جیسے معاشی مسائل کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : میاں افتخار حسین کا باجوڑ سپورٹس کمپلیکس کا دورہ،متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی
حکام کا ماننا ہے کہ کرنسی میں یہ بڑی تبدیلی اقتصادی نظم و نسق میں بہتری اور عوام کے لیے مالیاتی لین دین کو آسان بنانے میں مدد دے گی۔





