جشن آزادی کے نام پر ہوائی فائرنگ نے ایک گھنٹے میں کئی گھر اجاڑ دئیے

کراچی میں جشنِ آزادی کے دوران ہوائی فائرنگ نے جشن کو سوگ میں بدل دیا، صرف ایک گھنٹے کے اندر فائرنگ کے مختلف واقعات میں تین شہری جاں بحق اور 82 زخمی ہو گئے۔

مختلف علاقوں میں اندھی گولیاں خوشیاں چھینتی رہیں، جن میں عورتیں، مرد اور بچے سب متاثر ہوئے۔

پولیس کے مطابق عزیزآباد میں افسوسناک واقعے میں 8 سالہ بچی سر پر گولی لگنے سے دم توڑ گئی، جبکہ کورنگی اور لیاری میں دو معمر افراد گولیوں کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوئے۔

ہوائی فائرنگ کے ان واقعات نے شہریوں کو خوف اور غم کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔

شہری علاقوں میں فائرنگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایسٹ زون میں 30، ویسٹ زون میں 43 اور ساؤتھ میں 12 شہری گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے۔

پولیس کی رپورٹ کے مطابق زخمیوں میں 51 مرد، 24 خواتین، 6 بچے اور ایک بچی شامل ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا کہ ہوائی فائرنگ ایک افسوسناک اور خطرناک عمل ہے جس سے قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جشن آزادی کی خوشیاں منانے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اپنی بندوق کی طاقت سے کسی کی زندگی چھین لے۔پولیس نے شہر بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے 57 افراد کو گرفتار کیا جن سے اتنی ہی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔

آئی جی سندھ کے مطابق ان افراد کے خلاف اقدامِ قتل سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے جا رہے ہیں، اور ہر گرفتار شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : ایبٹ آباد میں شدید بارش نے تباہی مچادی،جانی و مالی نقصانات

غلام نبی میمن نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جشن کو مثبت طریقے سے منائیں۔ انہوں نے کہاکہ ایسا عمل کریں جس سے لوگوں کے چہروں پر خوشی آئے، نہ کہ آنکھوں میں آنسو۔ ہوائی فائرنگ قانوناً جرم ہے اور اخلاقاً بھی ناقابلِ قبول۔

Scroll to Top