مغرب مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے، روسی صدر پیوٹن

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے الاسکا میں ہونے والی ملاقات کے بعد اپنے پہلے بیان میں کہا ہے کہ مغرب کو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

پیوٹن نے کہا کہ امریکا سے براہ راست بات چیت وقت کی اہم ضرورت ہے اور موجودہ عالمی حالات میں سفارتی رابطے بے حد ضروری ہیں۔

روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر سے ملاقات تعمیری اور امید افزا رہی اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات پر مثبت گفتگو ہوئی، انہوں نے اس امکان کا اظہار بھی کیا کہ امریکی صدر سے آئندہ ملاقات ماسکو میں ہو سکتی ہے۔

یوکرین تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی طریقہ اپنانا ہوگا، ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنا چاہیے، ہم قیامِ امن کے لیے سنجیدہ ہیں۔

روسی صدر پیوٹن نے یوکرینی عوام کو بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ ایک سانحہ ہے جس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:روس بڑی طاقت ہے، یوکرین نہیں، امریکی صدر ٹرمپ

روسی صدر نے عالمی کشیدگی کم کرنے کے لیے باہمی روابط کو ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ امن کے قیام کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی سے کردار ادا کرنا ہوگا۔

Scroll to Top