پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی کی پیشگوئی

ملک میں معاشی صورتحال اور افراط زر کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ رہی ہے، جہاں ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2025 میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں ماہ مہنگائی کی شرح 3.75 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو گزشتہ ماہ جولائی 2025 میں ریکارڈ کی گئی 4.07 فیصد مہنگائی کی شرح سے قدرے کم یا برابر ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سالانہ بنیاد پر دیکھی جائے تو اگست 2024 میں مہنگائی 9.63 فیصد تھی، جس کے مقابلے میں اگست 2025 میں تقریباً نصف سے بھی کم مہنگائی کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں معمولی 0.3 فیصد اضافے کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے، جو موسمی اور وقتی اثرات کے تحت تصور کی جا رہی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ممکنہ پالیسی اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’’اسٹیٹ بینک کے پاس پالیسی ریٹ میں 50 سے 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی گنجائش موجود ہے، اور توقع ہے کہ دسمبر 2025 تک پالیسی ریٹ 10 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔‘‘یہ پیشگوئی افراطِ زر میں مسلسل کمی اور معاشی استحکام کے تناظر میں کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال کے اختتام تک مہنگائی کی اوسط شرح 6 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک پہلے ہی اپنی پالیسی گائیڈ لائنز میں 5 سے 7 فیصد مہنگائی کا تخمینہ جاری کر چکا ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق اگست میں بعض اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے،مہنگی ہونے والی اشیاء،ٹرانسپورٹ کرائےڈیزل ،ٹماٹر،پیاز،انڈے

سستی ہونے والی اشیاء
تازہ پھل چینی مرغی (چکن)
معاشی ماہرین کے مطابق مہنگائی میں کمی کا رجحان زرعی پیداوار میں بہتری، تیل کی عالمی قیمتوں میں استحکام، اور روپے کی قدر میں بہتری کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آئندہ مہینوں میں عوام کو مزید ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

Scroll to Top